نئی دہلی 19/اپریل (ایس او نیوز/ ایجنسی) سپریم کورٹ نے بابری مسجد انہدام کیس میں بدھ کو بڑا فیصلہ دیا. کورٹ نے حکم دیا کہ بی جے پی کے بڑے لیڈروں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی سمیت باقی ملزمان پر مجرمانہ سازش کا معاملہ چلے گا. کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اس کیس میں چل رہے دو الگ الگ معاملات کو جمع کردیا جائے اور رائے بریلی میں چل رہے کیس کو لکھنؤ میں ہی چلایا جائے. یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے، جب جلد ہی صدر کے لئے انتخابات ہونے والے ہیں. اڈوانی اور جوشی، دونوں ہی صدارتی عہدےکے مضبوط دعویدار مانے جا رہے تھے. جہاں تک کلیان سنگھ کا سوال ہے، چونکہ وہ گورنر ہیں، لہذا ان پر مقدمہ نہیں چل سکتا. اگرچہ، کلیان سنگھ کے علاوہ مرکزی وزیر اوما بھارتی پرعہدہ چھوڑنے کا اخلاقی دباؤ بن سکتا ہے. فیصلہ آنے کے بعد کانگریس لیڈر راشد علوی نے اوما بھارتی اور کلیان سنگھ کو اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کی مانگ کی ہے.
عدالت نے بدھ کو اپنا حکم پڑھتے ہوئے کہا کہ وہ سی بی آئی کی اپیل کو قبول کر رہے ہیں. سی بی آئی نے کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ بی جے پی لیڈروں سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مجرمانہ سازش کا معاملہ جوڑا جائے. کورٹ نے کہا ہے کہ معاملے کی ڈے ٹو ڈے سماعت ہو اور پورے عمل کو دو سال میں مکمل کر لیا جائے.
کیا ہے معاملہ:
1992 میں بابری مسجد گرانے کو لے کر دو معاملے درج کئے گئے تھے. ایک کیس (کیس نمبر 197) کار سیوکوں کے خلاف تھا جبکہ دوسرا کیس (کیس نمبر 198) پلیٹ فارم پر موجود رہنماؤں کے خلاف تھا. کیس نمبر 197 کے لئے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اجازت لے کر ٹرائل کے لئے لکھنؤ میں دو اسپیشل کورٹ بنائے گئے جبکہ 198 کیس رائے بریلی میں چلایا گیا. کیس نمبر 197 کی تحقیقات سی بی آئی کو دی گئی جبکہ 198 کی تحقیقات اُترپردیش کی سی آئی ڈی نے کی تھی. کیس نمبر 198 کے تحت رائے بریلی میں چل رہے معاملے میں رہنماؤں پر دفعہ 120 B نہیں لگائی گئی تھی لیکن بعد میں مجرمانہ سازش کی دفعہ شامل کرنے کی کورٹ میں عرضی لگائی. کورٹ نے اس کی اجازت دے دی.
ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے کہا گیا کہ رائے بریلی کیس کو بھی لکھنؤ لایا جائے. ہائی کورٹ نے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ کیس ٹرانسفر نہیں ہو سکتا کیونکہ اصول کے تحت 198 کے لئے چیف جسٹس سے منظوری نہیں لی گئی. اس کے بعد رائے بریلی میں چل رہے کیس میں اڈوانی سمیت دیگر رہنماؤں پر سازش کا الزام ہٹا دیا گیا. الہ آباد ہائی کورٹ نے 20 مئی 2010 کے آرڈر میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا. اس فیصلے کو سی بی آئی نے 2011 میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا. چیلنج دینے میں آٹھ ماہ کی تاخیر کی گئی.
سی بی آئی کی دلیل
سی بی آئی کی جانب سے دلیل دی گئی تھی کہ بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی سمیت دیگر 13 بی جے پی رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کا کیس چلنا چاہئے. غور طلب ہے کہ تکنیکی بنیاد پر ان کے خلاف سازش کا کیس منسوخ کیا گیا تھا جس کے بعد سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی. لکھنؤ میں کارسیوکوں کے خلاف کیس زیر التواء ہے جبکہ رائے بریلی میں بی جے پی رہنماؤں کے خلاف کیس چل رہا ہے.
لیڈروں نے جوائنٹ ٹرائل کی کی مخالفت
اڈوانی اور جوشی کی جانب سے پیش وکیل وینو گوپال نے جوائنٹ ٹرائل کی مخالفت کی تھی ساتھ ہی کیس کی منتقلی کی بھی مخالفت کی تھی. سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اشارہ دیا تھا کہ ہم رائے بریلی سے کیس لکھنؤ ٹرانسفر کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہم آرٹیکل -142 کا استعمال کر سکتے ہیں. عدالت نے کہا تھا کہ ہم جسٹس چاہتے ہیں.